Mirza Ghalib Ki Hazir Dimaghi Ke Teen Dilchasp Waqiat

 

Mirza Ghalib Ki Hazir Dimaghi Ke Teen Dilchasp Waqiat

اس کہانی میں مرزا غالب کی زندگی کے تین اہم اور دلچسپ واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ یہ تینوں واقعات مرزا غالب کی حاضر دماغی اور ظرافت کو ظاہر کرتے ہیں۔

مرزا، کتنے روزے رکھے؟

مرزا غالب کی حاضر دماغی کے  بے شمار واقعات تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں۔ ایک مرتبہ رمضان کا مہینہ گزرنے کے بعد مرزا غالب لال قلعہ میں بہادر شاہ ظفر کے دربار میں حاضر ہوئے۔ بادشاہ نے مسکراتے ہوئے مرزا غالب سے پوچھا، مرزا، کتنے روزے رکھے؟

مرزا غالب نے بے ساختہ ہاتھ باندھے اور جواب دیا، "میرے آقا! ایک نہیں رکھا"۔ اس ایک جملے میں دو معنی ہیں۔ پہلا یہ کہ مرزا غالب نے صرف ایک روزہ نہیں رکھا اور دوسرا یہ کہ ایک بھی روزہ نہیں رکھا۔


مرزا غالب اور شیطان

ایک دن رمضان کی شدید گرمی میں مرزا غالب اپنے ایک دوست کے ساتھ اپنے تنگ اور اندھیرے کمرے میں چوپڑ کھیل رہے تھے۔ اتنے میں مولانا آزاد وہاں آئے اور طنزیہ انداز میں کہنے لگے، "ہم نے حدیث میں پڑھا تھا کہ رمضان کے مہینے میں شیطان قید رہتا ہے، لیکن آج مجھے اس بات پر شک ہو رہا ہے"۔

مرزا غالب نے فوراً جواب دیا، "حضرت! حدیث بالکل درست ہے، لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ شیطان اسی کمرے میں قید ہے"۔

مرزا غالب نے سودائی کسے کہا؟

مرزا غالب زیادہ باتیں نہیں کرتے تھے۔ لیکن اپنے دوستوں اور شاگردوں کے ساتھ بہت بے تکلف اور صاف گو تھے۔ ایک مرتبہ ایک محفل میں شیخ ابراہیم ذوق نے مرزا سودا کو میر تقی میر پر ترجیح دینے کا اظہار کیا۔ مرزا غالب بھی اس محفل میں موجود تھے۔ غالب نے ذوق پر چوٹ کرتے ہوئے کہا، میں تو ہمیشہ آپ کو "میری" سمجھتا تھا، لیکن اب معلوم ہوا کہ آپ تو "سودائی" ہیں۔ اردو میں “سودائی“ کا مطلب پاگل ہوتا ہے۔

مرزا غالب زیادہ باتونی شخص نہیں تھے

مولانا الطاف حسین حالی کے مطابق مرزا غالب بہت زیادہ باتونی شخص نہیں تھے۔ لیکن جو لفظ مرزا غالب کی زبان سے نکلتا تھا وہ لفظ دلکشی اور مزاح سے خالی نہیں ہوتا تھا۔ اردو ادب کی تاریخ میں مرزا غالب وہ واحد شخصیت ہیں جن کی ظرافت، خوش مزاجی اور برجستہ جملوں کے قصے آج بھی مشہور ہیں۔

مرزا غالب کی بے ساختہ باتیں ان کی محفلوں کی جان ہوا کرتی تھیں۔ اگر ان کی تمام ظریفانہ باتوں اور برجستہ جملوں کو جمع کیا جائے تو ایک بہت بڑی کتاب تیار ہو سکتی ہے۔


یہ دلچسپ کہانیاں بھی پڑھیں

ٹائٹینک کب اور کیسے ڈوبا تھا؟

شاہ جہاں کے لیے برف کہاں سے اور کیسے لائی جاتی تھی؟

Post a Comment

Previous Post Next Post