اس
کہانی میں آپ پڑھیں
گے کہ فٹبال کے
مشہور کھلاڑی جوسی مر
ڈیاس کو "ووزی ناں"
کیوں کہا جاتا ہے،
یہ نام انہیں کب
ملا اور اس کے
پیچھے کیا دلچسپ کہانی
ہے۔
ووزی ناں کو ووزی ناں کب سے اور کیوں کہتے ہیں؟
دن
15 جون 2026ء کو امریکا
کے شہر اٹلانٹا میں
فیفا عالمی کپ کا
ایک اہم میچ ہوا۔
اس میچ میں کیپ
وردے کی قومی ٹیم
کا مقابلہ اسپین سے
تھا۔ اسپین کی ٹیم
میں میکل اویارزابال، پیدری،
نیکو ولیمز اور لامین
یامال جیسے عالمی معیار
کے کھلاڑی موجود تھے۔
اسپین عالمی کپ بھی
جیت چکا تھا اور
چار مرتبہ یورپی چیمپئن
شپ بھی اپنے نام
کر چکا تھا۔ اس
لیے ظاہری طور پر
یہ ایک ایسا مقابلہ
تھا جس کا نتیجہ
میچ شروع ہونے سے
پہلے ہی نکل چکا
تھا۔
دنیا
کی نظریں اسپین پر تھیں اور بہت کم لوگوں کو توقع تھی کہ کیپ وردے کی ٹیم کوئی بڑا
مقابلہ پیش کر پائے گی۔ کیپ وردے کے گول کے سامنے ایک چالیس سالہ کھلاڑی کھڑا تھا۔
وہ فیفا عالمی کپ 2026ء کا سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی تھا۔ کیپ وردے کی ٹیم اس چالیس سالہ
کھلاڑی کو میدان میں اتارنے پر مجبور تھی، کیونکہ اس کے پاس کوئی دوسرا گول کیپر موجود
نہیں تھا۔
میچ
کے شروع ہوتے ہی سپین نے کیپ وردے کے گول پر حملے شروع کر دیے۔ لیکن جیسے جیسے میچ
آگے بڑھتا گیا دنیا کی حیرانگی میں اضافہ ہوتا گیا۔ کیپ وردے کی ٹیم کا چالیس سالہ
گول کیپر ایک چٹان کی طرح گول کے سامنے کھڑا رہا۔
یہ
میچ 94 منٹ تک جاری رہا اور اس دوران سپین نے کیپ وردے کے گول پر 27 حملے کیے۔ یہ
27 حملے دنیا کے بہترین کھلاڑیوں نے کیے تھے۔ لیکن کیپ وردے کے چالیس سالہ گول کیپر
نے یہ تمام کے تمام حملے ناکام کر دیے۔
اس
گول کیپر نے مشکل
سے مشکل شاٹ روک
کر دنیا کو حیران
کر دیا۔ میچ بغیر
کسی گول کے برابر
ہو گیا، مگر اس
مقابلے نے فٹ بال
کی دنیا میں نئی
تاریخ رقم کر دی۔
میچ
کے اختتام پر پورے
اسٹیڈیم میں صرف ایک
کھلاڑی کا نام گونج
رہا تھا۔ یہ کیپ
وردے کے گول کیپر
کا نام تھا، اور
وہ نام تھا "ووزی
ناں"۔ جی ہاں،
دنیا کو حیران کرنے
والا یہ چالیس سالہ
گول کیپر "ووزی ناں"
ہی تھا۔
جوسی مر ڈیاس ووزی ناں کیسے بنا؟
یہ
ایک دلچسپ کہانی ہے۔
جوسی مر ڈیاس ابھی
بچہ ہی تھا جب
اس کے والد کا
انتقال ہوگیا۔ والد کا
سہارا ختم ہوجانے کے
بعد اس کا تمام
تر سہارا اس کی
دادی تھی۔ وہ اپنی
دادی سے بے حد
محبت کرتا تھا اور
اس کی زندگی میں
دادی کا کردار بہت
اہم تھا۔ پرتگالی زبان
میں دادی یا نانی
کو پکارنے کے لیے
لفظ "ووزی ناں" استعمال
کیا جاتا ہے۔ یعنی
لفظ “ووزی ناں“ کا
مطلب "نانی" یا "دادی"
لیا جاتا ہے۔
جوسی
مر ڈیاس کو بچپن
ہی سے فٹ بال
کھیلنے کا شوق تھا،
لیکن جسمانی طور پر
وہ دوسرے بچوں کی
نسبت کمزور تھا۔ بچوں
کے ساتھ کھیلتے ہوئے
اگر کوئی اسے تنگ
کرتا یا اس کے
ساتھ زیادتی کرتا تو
وہ "ووزی ناں، ووزی
ناں" پکارتا ہوا گھر
کی طرف دوڑ لگا
دیتا۔
اس
کے گھر پہنچنے کے
کچھ ہی دیر بعد
اس کی دادی ہاتھ
میں ڈنڈا لیے باہر
آتی، اور بچے قہقہے
لگاتے ہوئے وہاں سے
بھاگ جاتے۔
یہ
اس کا روز کا معمول تھا۔ جوسی مر ڈیاس کی اس عادت کی وجہ سے بچوں نے اسے چھیڑنے کے
لیے "ووزی ناں"
کہنا شروع کردیا اور آہستہ آہستہ یہ اس کا نام بن گیا۔
کیا یہ نام جوسی مر ڈیاس کو پسند ہے؟
لوگ
طنزاً جوسی مر ڈیاس
کو "ووزی ناں" کہتے
تھے، لیکن آہستہ آہستہ
اس نے بھی اس
نام کو قبول کر
لیا۔ ایک مرتبہ کیپ
وردے اور انگولا کی
ٹیموں کے درمیان میچ
کھیلا جا رہا تھا۔
اتفاق سے انگولا کی
ٹیم میں بھی جوسی
مر نام کا ایک
کھلاڑی موجود تھا۔
دونوں
ٹیموں میں ایک ہی
نام کے دو کھلاڑی
ہونے کی وجہ سے
کمنٹیٹر کو دشواری پیش
آ رہی تھی۔
وہ جب بھی "جوسی
مر" کا نام لیتا
تو تماشائی دونوں طرف
دیکھنا شروع کر دیتے۔
جوسی
مر نے اس پریشانی کا ایک عجیب حل نکالا۔ اس نے اپنی جرسی پر وہی نام لکھوا کر پہن لیا
جس سے لوگ اسے بچپن میں چڑایا کرتے تھے۔ اس دن کے بعد جوسی مر "ووزی ناں" بن گیا۔
یہ دلچسپ کہانیاں بھی پڑھیں
شاہ جہاں کے لیے برف کہاں سے اور کیسے لائی جاتی تھی؟
