Sangram! Tum Pehalwan Bano Ge Aur Duniya Yeh Dekhe Gi

 

Motivational True Story of Sangram Singh in Urdu

یہ الفاظ "سنگرام، تم پہلوان بنو گے اور دنیا یہ دیکھے گی" ایک ایسی بہادر ماں کے ہیں جس کا بیمار بیٹا چارپائی پر پڑا ہوا ہر گزرتے لمحے کے ساتھ موت کے قریب جا رہا تھا۔ لیکن وہ بیمار بیٹا سچ میں پہلوان بنا اور دنیا نے دیکھا۔

سنگرام! تم پہلوان بنو گے اور دنیا یہ دیکھے گی

مکس مارشل آرٹس کا ایک بہت بڑا مقابلہ تھا۔ بہت بڑا اس لیے کہ یہ مقابلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تھا۔ پاکستان کی طرف سے علی رضا ناصر اور بھارت کی طرف سے سنگرام سنگھ نے یہ مقابلہ لڑنا تھا۔ پاکستانی ریسلر علی رضا ایک منجھا ہوا اور تجربہ کار ریسلر تھا۔ جبکہ دوسری طرف بھارتی ریسلر سنگرام سنگھ اس فیلڈ میں نیا اور ناتجربہ کار تھا۔


لیکن اس مقابلے کے نتیجے نے سب کو حیران کردیا۔ سنگرام سنگھ نے علی رضا ناصر کو صرف 90 سیکنڈز میں ناک آئوٹ کر دیا۔ لوگوں کے لیے یہ بات بہت حیران کردینے والی تھی کہ ایک ناتجربہ کار کھلاڑی نے ایک پرانے، تجربہ کار اور بڑے کھلاڑی کو اتنی جلدی ہرا دیا۔ اس کے بعد یہ سنگرام سنگھ کا ایک ریکارڈ بن گیا۔

سنگرام سنگھ ہریانہ میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین غربت کا شکار تھے۔ بچپن میں اس کے ایک پاؤں میں درد شروع ہوا اور یہ درد ختم ہونے کے بجائے آہستہ آہستہ اس کے پورے جسم میں پھیل گیا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ سنگرام آرتھریٹس یعنی جوڑوں کی بیماری کا شکار ہوگیا ہے۔ ڈاکٹر نے سنگرام کے والدین کو یہ بھی بتا دیا کہ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں ہے۔ یہ خبر سنگرام کے والدین کے لیے قیامت سے کم نہیں تھی۔

بیماری آہستہ آہستہ بڑھتی جا رہی تھی۔ سنگرام کے لیے اٹھنا، بیٹھنا، چلنا پھرنا، سب مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ پھر ایک وقت ایسا آیا جب سنگرام سنگھ بالکل چارپائی تک محدود ہو کر رہ گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب سنگرام کے لیے منہ دھونا، بات کرنا اور کھانا نگلنا بھی مشکل ہوگیا تھا۔

یہ وہ وقت تھا جب گھروں میں واش روم نہیں ہوا کرتے تھے۔ اس لیے لوگ اپنی فطری ضروریات پوری کرنے کے لیے کھیتوں میں جایا کرتے تھے۔ سنگرام سنگھ کے لیے کھیتوں میں جانا ممکن نہیں تھا اور نہ ہی کوئی ایسا موجود تھا جو اسے اٹھا کر کھیتوں میں لے جا سکے۔ اس لیے سنگرام کے والدین نے اس کی چارپائی میں ایک سوراخ کر رکھا تھا تاکہ اسے اٹھ کر کہیں جانے کی ضرورت نہ پڑے۔ سنگرام کی والدہ اس کے بعد اگلے دن صفائی کر دیتی تھی۔

ڈاکٹروں کے بقول سنگرام کی بیماری میں مبتلا ننانوے اعشاریہ ننانوے فیصد لوگ صحت یاب نہیں ہو پاتے۔ ڈاکٹروں کے مطابق سنگرام کے پاس بھی صرف چھ ماہ باقی تھے۔ انہوں نے سنگرام کے والدین کو صاف بتا دیا تھا کہ اس کے بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، اس لیے اس کے علاج پر پیسہ خرچ نہ کریں۔

لیکن سنگرام کی ماں نے ہار ماننے سے انکار کر دیا۔ اس نے دن میں کئی بار مختلف تیلوں سے سنگرام کی مالش کرنا شروع کر دی۔ اس کے علاوہ وہ دیسی جڑی بوٹیاں بھی اُبال کر اسے پلانے لگی۔ سنگرام کی ماں ہر وقت اس کے قریب بیٹھی رہتی اور کہتی، "میرا بیٹا پہلوان بنے گا"۔

مالش کرتے ہوئے وہ اکثر سنگرام سے کہتی، "سنگرام! تم پہلوان بنو گے اور دنیا یہ دیکھے گی"۔

یہ وہ وقت تھا جب ہریانہ میں پہلوانی سب سے مشہور کھیلوں میں شمار ہوتی تھی۔ ریاست کے بہت سے نوجوان پہلوانی کیا کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ سنگرام کی ماں بھی چاہتی تھی کہ اس کا بیٹا بڑا ہو کر پہلوان بنے۔

سنگرام کی ماں کی مسلسل مالش، علاج اور دعاؤں کا سلسلہ جاری رہا اور سنگرام کی حالت آہستہ آہستہ بہتر ہونے لگی۔ اس کی ماں نے اس کے لیے لکڑی کی بیساکھیاں بنائیں، جن کی مدد سے سنگرام نے پہلے کھڑا ہونا سیکھا اور پھر آہستہ آہستہ چلنے کے قابل بھی ہوگیا۔ سنگرام نے اپنی زندگی کے تقریباً آٹھ سال اسی حالت میں گزارے۔

جب سنگرام کی عمر تقریباً بارہ تیرہ سال ہوئی تو اس کی ماں اسے ایک اکھاڑے میں لے گئی۔ لیکن استاد نے سنگرام کا لنگڑا پن دیکھ کر اسے پہلوانی سکھانے سے انکار کر دیا۔ تاہم یہی وہ مقام تھا جہاں سے سنگرام کی پہلوانی کا سفر شروع ہوا۔

اس کے بعد سنگرام ایک اکھاڑے سے دوسرے اکھاڑے اور پھر تیسرے اکھاڑے کا رخ کرتا رہا۔ وہ مختلف پہلوانوں کے ساتھ کشتی لڑتا اور مار کھاتا رہا، لیکن اس نے پہلوان بننے کا ارادہ نہیں چھوڑا۔

پھر ایک دن سنگرام سنگھ نے وہ مقابلہ جیت لیا جسے پوری دنیا نے دیکھا، اور سنگرام سنگھ کی ماں کی بات سچ ثابت ہوگئی۔

سنگرام! تم پہلوان بنو گے اور دنیا یہ دیکھے گی۔

یہ دلچسپ کہانیاں بھی پڑھیں

نورمن کزنز نے اپنی بیماری کے دوران ہنسنا کیوں شروع کیا؟

 


Post a Comment

Previous Post Next Post