یہ
چارلی چیپلن کی قبر
سے اُن کی لاش
چوری ہونے کی دلچسپ
کہانی ہے۔ چارلی چیپلن
کی لاش کس نے
چوری کی، کیوں چوری
کی اور پولیس نے
لاش کیسے واپس حاصل
کی، یہ سب باتیں
آپ اس کہانی میں
پڑھیں گے۔
چارلی چیپلن کی قبر سے لاش کس نے اور کیوں چوری کی؟
چارلی
چیپلن دنیا کے مشہور
ترین اداکاروں میں سے ایک
ہیں۔ خاموش فلموں کے
دور میں ان کے
منفرد کردار اور مزاحیہ
انداز نے انہیں پوری
دنیا میں شہرت دی۔
لیکن چارلی چیپلن کی
موت کے بعد ان
کے ساتھ ایک ایسا
عجیب واقعہ پیش آیا
جس پر یقین کرنا
مشکل ہے۔
چارلی
چیپلن 25 دسمبر 1977 کو سوئٹزرلینڈ میں
88 سال کی عمر میں
انتقال کر گئے تھے۔
ان کو سوئٹزرلینڈ کے
قصبے کورسیے-سور-ویوے
(Corsier-sur-Vevey) کے قبرستان میں دفن
کیا گیا تھا۔ دفن
کرنے کے تقریباً دو
ماہ بعد ایک صبح
قبرستان میں کام کرنے
والے ایک شخص نے
دیکھا کہ چیپلن کی
قبر کھلی ہوئی تھی
اور قبر میں تابوت
بھی موجود نہیں تھا۔
یہ
کوئی معمولی چوری نہیں
تھی۔ چور چارلی چیپلن
کی قبر کھود کر
قبر سے تابوت ہی
نکال کر لے گئے
تھے۔ شروع میں پولیس
کے پاس یہ معلوم
کرنے کا کوئی واضح
راستہ نہیں تھا کہ
تابوت کون لے گیا
ہے اور تابوت کو
لے جانے کے پیچھے
اصل مقصد کیا ہے۔
مختلف قسم کی قیاس
آرائیاں ہونے لگیں۔ کچھ
لوگوں کا خیال تھا
کہ شاید چارلی چیپلن
کے کسی جنونی مداح
نے یہ حرکت کی
ہے۔ مگر پولیس کو
یہ بھی خدشہ تھا
کہ چور تاوان کا
مطالبہ کر سکتے ہیں۔
اس
حادثے کے کچھ دنوں
بعد چیپلن کی بیوہ،
اونا چیپلن، کو ایک
فون کال موصول ہوئی۔
فون کرنے والے نے
بتایا کہ چارلی چیپلن
کی لاش اُس کے
پاس ہے اور اُس
نے لاش واپس کرنے
کے بدلے میں ایک
بڑی رقم کا مطالبہ
کیا۔ یہ رقم تقریباً
600,000 ڈالر تھی۔
اونا
چیپلن نے تاوان کی
رقم دینے سے انکار
کر دیا۔ لیکن پولیس
کی مدد کے لیے
فون کرنے والے سے
بات چیت جاری رکھی
گئی۔ چور ہر مرتبہ
ایک نئے عوامی ٹیلی
فون بوتھ سے فون
کرتے تھے۔ پولیس نے
ان کالز کا سراغ
لگانے کے لیے علاقے
کے تقریباً 200 عوامی ٹیلی فون
بوتھوں پر نظر رکھنا
شروع کر دی۔
کئی
ہفتوں کی کوشش کے بعد پولیس نے آخرکار ایک شخص کو گرفتار کر لیا۔ یہ ایک مکینک تھا۔
اس کی عمر 24 سال اور اس کا نام رومان وارڈاس (Roman Wardas) تھا۔ تفتیش کے دوران ایک
دوسرے شخص، بلغاریہ سے تعلق رکھنے والے گینچو گانیف (Gancho Ganev)، کو بھی گرفتار
کر لیا گیا۔ یہ دونوں گاڑیوں کی مرمت کا کام کرتے تھے۔ ان دونوں نے ہی قبر سے لاش چوری
کی تھی۔
ان
دونوں نے چارلی چیپلن کا تابوت قبر سے نکالنے کے بعد اسے چھپانے کے لیے ایک کھیت میں
دفن کر دیا تھا۔ ان دونوں کے پکڑے جانے کے بعد پولیس کو معلوم ہوا کہ تابوت سوئٹزرلینڈ
کے علاقے نوویل کے قریب ایک کھیت میں چھپایا گیا ہے۔ پولیس نے وہاں تلاش شروع کی اور
بالآخر تابوت برآمد کر لیا گیا۔
اس
کہانی میں ایک دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی کہ دونوں چوروں کو تابوت چھپانے کی صحیح
جگہ یاد نہیں رہی تھی۔ پولیس نے دھاتی آلات کی مدد سے تلاش شروع کی اور تابوت کے دھاتی
حصوں کی وجہ سے اسے تلاش کرنے میں کامیاب ہوئی۔
تفتیش
کے دوران معلوم ہوا کہ اس جرم کا مقصد صرف پیسہ حاصل کرنا تھا۔ رومان وارڈاس نے عدالت
میں بتایا کہ وہ مالی مشکلات کا شکار تھا اور اسے یہ خیال اخبار میں اٹلی میں پیش آنے
والے اسی طرح کے ایک واقعے کے بارے میں پڑھ کر آیا تھا۔ دونوں نے چیپلن کے تابوت کو
چوری کرکے ان کے خاندان سے رقم حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
تابوت
ملنے کے بعد چارلی چیپلن کی تدفین دوبارہ اسی قبرستان میں کی گئی۔ اس مرتبہ قبر کو
مزید محفوظ بنانے کے لیے تابوت کو تقریباً دو میٹر موٹی کنکریٹ کی تہہ میں محفوظ کیا
گیا تاکہ مستقبل میں کوئی اسے دوبارہ نہ نکال سکے۔ عدالت کی طرف سے رومان وارڈاس کو
ساڑھے چار سال قید کی سزا سنائی گئی اور اس کے ساتھی گانیف کو 18 ماہ کی سزا ملی۔
