اس
کہانی میں آپ امریکہ
کے مشہور صدر ابراہم
لنکن کے بارے میں
پڑھیں گے جب اُن
کو تھیٹر میں ڈرامہ
دیکھتے ہوئے اچانک گولی
مار دی گئی تھی۔
ابراہم لنکن کو گولی لگنے کے بعد کیا ہوا؟
امریکا
کے صدر ابراہم لنکن
کی زندگی کا آخری
دن 14 اپریل 1865 تھا۔ اس رات
ابراہم لنکن واشنگٹن ڈی
سی کے فورڈ تھیٹر
میں بیٹھ کر ایک
ڈرامہ دیکھ رہے تھے۔
کسی کو بھی اس
بات کا اندازہ نہیں
تھا کہ چند ہی
لمحوں کے بعد امریکی
تاریخ کا ایک انتہائی
اہم واقعہ پیش آنے
والا ہے۔
لنکن
اپنی اہلیہ میری ٹوڈ
لنکن کے ساتھ اس
باکس میں بیٹھے ہوئے
تھے جو صدر کے
لیے مخصوص تھا۔ ڈرامہ
دیکھتے ہوئے وہ بہت
خوشگوار موڈ میں نظر
آ رہے تھے
اور حاضرین کی جانب
سے کیے جانے والے
استقبال کا جواب دے
رہے تھے۔ لائبریری آف
کانگریس میں محفوظ ایک
عینی شاہد کے خط
کے مطابق تھیٹر کا
ماحول اس وقت بہت
خوشگوار تھا اور لنکن
ہنس بھی رہے تھے۔
ڈرامے
کے تیسرے ایکٹ کے
بعد ایک شخص صدر
کے باکس میں داخل
ہوا۔ یہ شخص کوئی
اور نہیں بلکہ مشہور
اداکار جان ولکس بوتھ
(John Wilkes Booth) تھا۔ بوتھ نے آتے
ہی لنکن کے سر
کے پچھلے حصے میں
گولی مار دی۔ اس
کے بعد وہ اسٹیج
پر کودا اور تھیٹر
سے باہر کی طرف
بھاگ گیا۔ گولی لگنے
کے بعد لنکن شدید
زخمی ہوکر اپنی نشست
پر گر گئے۔
آج
کے دور میں شدید
زخمی شخص کو فوراً
ہسپتال لے جانے کی
کوشش کی جاتی ہے۔
لیکن یہ
وہ وقت تھا جب
واشنگٹن میں جدید ایمبولینس
کی سہولت موجود نہیں
تھی۔ اس لیے ابراہم
لنکن کو ہسپتال نہیں
لے جایا گیا۔
جس
تھیٹر میں ابراہم لنکن ڈرامہ دیکھ رہے تھے اس تھیٹر کے سامنے ہی ولیم پیٹرسن کا گھر
تھا۔ چند افراد نے زخمی صدر کو اٹھایا اور انہیں سڑک کے دوسری طرف ولیم پیٹرسن کے گھر
کے پچھلے کمرے میں ایک بستر پر لٹا دیا۔ یہی گھر بعد میں "Petersen House" کے نام سے
مشہور ہوا۔
ابراہم
لنکن کی حالت انتہائی تشویش ناک تھی۔ ڈاکٹر چارلس اے لیل (Dr. Charles Augustus
Leale)، جو اس وقت صرف 23 سال کے تھے، زخمی صدر کی مدد کے لیے پہنچنے والے سب سے پہلے
ڈاکٹر تھے۔ انہوں نے تھیٹر میں ہی لنکن کا معائنہ کیا اور ان کے زخم کا علاج کرنے کی
کوشش کی۔
ابراہم
لنکن کے خاندان کے ذاتی ڈاکٹر رابرٹ کنگ اسٹون (Dr. Robert King Stone) بھی بعد میں
وہاں پہنچ گئے۔ اس رات صدر کے علاج کے لیے مجموعی طور پر 14 ڈاکٹر وہاں موجود تھے۔
تاہم ڈاکٹر اسٹون ہی ان ڈاکٹروں میں سے ایک ایسے ڈاکٹر تھے جنہوں نے بعد میں ابراہم
لنکن کی حالت کے بارے میں باقاعدہ گواہی دی تھی۔
ڈاکٹروں
کو جلد ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ زخم انتہائی خطرناک ہے اور ابراہم لنکن کے بچنے کے امکانات
نہیں تھے۔ اس کے باوجود وہ رات بھر ان کی سانس اور جسمانی حالت کی نگرانی کرتے رہے۔
یہ
رات ابراہم لنکن کے
اہل خانہ اور وہاں
موجود لوگوں کے لیے
انتہائی کرب ناک تھی۔
ابراہم لنکن کا بیٹا
رابرٹ اس رات تھیٹر
میں اپنے والدین کے
ساتھ جانے والا تھا،
لیکن ایک طویل سفر
کی وجہ سے وہ
تھکا ہوا تھا اور
گھر ہی پر رک
گیا۔
جب
اسے اپنے والد پر
حملے کی خبر ملی
تو وہ فوراً Petersen House پہنچا اور
اپنے والد کے آخری
لمحات میں ان کے
پاس موجود رہا۔ رابرٹ
لنکن اپنے والد کی
وفات کے وقت ان
کے بستر کے پاس
ہی موجود تھا۔
رات
گزر رہی تھی لیکن لنکن کی حالت میں بہتری نہیں آرہی تھی۔ ڈاکٹر ان کی سانس اور دیگر
جسمانی علامات کی نگرانی کرتے رہے۔ ابراہم لنکن صبح تک ہوش میں نہیں آئے اور بالآخر
15 اپریل 1865 کی صبح 7:22 پر وفات پا گئے۔ ان کی وفات کے بعد ان کی لاش کو
Petersen House سے وائٹ ہاؤس منتقل کیا گیا۔
ابراہم
لنکن کا قتل امریکی تاریخ کے اہم ترین سیاسی واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ لائبریری آف
کانگریس (Library of Congress) میں ڈاکٹر چارلس لیل کی رپورٹ اور ڈاکٹر رابرٹ کنگ اسٹون
کی دستاویزات آج بھی محفوظ ہیں۔
