اس
کہانی میں آپ مغل بادشاہ شاہ جہاں کے بارے میں پڑھیں گے۔ آپ پڑھیں گے کہ شاہ جہاں اپنے
لیے برف کہاں سے اور کیسے منگواتا تھا۔
مغل کہاں سے آئے تھے؟
مغل
بادشاہ آج کے ازبکستان
سے آئے تھے۔ ان
کا تعلق ازبکستان کے
علاقے فرغانہ سے تھا۔
یہ ایک ٹھنڈا علاقہ
تھا۔ فرغانہ کی ٹھنڈ
شدید ہوتی ہے۔ خاص
طور پر دسمبر اور
جنوری کے مہینوں میں۔
کبھی کبھی برف بھی
پڑتی تھی۔ کہتے ہیں
کہ مغل بادشاہ بابر
زندگی بھر فرغانہ کو
یاد کرتا رہا۔
ہندوستان کا موسم مغلوں کو کیسا لگا؟
مغلوں
کو ہندوستان کی گرمی بے
حد مشکل لگتی تھی۔
یہاں کی تیز دھوپ
اور لو مغلوں کے
لیے ایک نئی اور
پریشان کن چیز تھی۔
اسی
لیے مغل بادشاہوں نے
اپنے باغوں اور عمارتوں
میں ایسے انتظامات کیے
ہوئے تھے جن سے
گرمی سے کچھ راحت
مل سکے۔ جیسے کہ،
انہوں نے ٹھنڈی ہوا
کے لیے فوارے اور
نہریں بنوائیں۔ گھروں میں موٹے
پردے استعمال کرتے تھے
اور گھروں کی دیواریں
موٹی بنواتے تھے۔
ہندوستان
کا موسم فرغانہ کے
موسم کے بالکل برعکس
تھا۔ مغل ساری زندگی
گرمیوں میں ٹھنڈا پانی
تلاش کرتے رہے۔ اسی
لیے مغل گرمیوں میں
سری نگر چلے جاتے
تھے۔ اور گرمیوں کے
بعد دوبارہ دہلی اور
آگرہ واپس آ جاتے
تھے۔
مغل بادشاہوں کو ہندوستان سے کس بات کا شکوہ رہا؟
مغل
بادشاہوں کو برف بہت
پسند تھی۔ اور مغل
آئے بھی ایک ٹھنڈے
علاقے سے تھے۔ جب
کہ ہندوستان میں برف کی
کمی تھی اور گرمی
بھی زیادہ ہوتی تھی۔
مغل زندگی بھر گرمیوں
میں ٹھنڈے پانی کے
لیے ترستے رہے۔
بابر
کو ہندوستان سے 3 بڑے شکوے
تھے، اور ان میں
سب سے پہلا شکوہ
"ہندوستان میں برف کی
کمی" تھا۔
شاہ جہاں کے لیے برف کہاں سے اور کیسے لائی جاتی تھی؟
مغل
بادشاہ شاہ جہاں اپنی
شان و شوکت اور
عیش و عشرت کے
لیے جانا جاتا تھا۔
اس کی زندگی میں
ہر چیز بہترین اور
نایاب ہوتی تھی۔ اس
میں موسمِ گرما کی
گرمی سے بچنے کے
انتظامات بھی شامل تھے۔
گرمی کے موسم میں
گرمی اور لو سے
بچنے کے لیے شاہ
جہاں کئی طریقے استعمال
کیا کرتا تھا۔ ان
میں سے ایک تھا
کشمیر سے برف منگوانا۔
کشمیر،
اپنی خوبصورتی اور ٹھنڈی ہوا
کے لیے مشہور ہے۔
کشمیر کی برف بھی
خاص ہوتی تھی۔ شاہ
جہاں اس برف کو
اپنے لیے کشمیر سے
منگواتا تھا۔
شاہ
جہاں اپنے خاص خریداروں
کو کشمیر بھیجتا تھا۔
یہ خریدار وہاں سے
برف خریدتے تھے اور
اسے خاص طریقے سے
پیک کرتے تھے۔ تاکہ
برف پگھل نہ سکے۔
برف کو پگھلنے سے
بچانے کے لیے موٹے
کپڑوں میں لپیٹا جاتا
تھا اور خاص طرح
کی پیٹیوں میں بند
کیا جاتا تھا۔ یا
پھر گھاس میں لپیٹ
کر لایا جاتا تھا۔
یہ وہ وقت تھا
جب برف کو تحفوں
کی شکل میں بھی
لایا جاتا تھا۔
شاہ
جہاں کے کئی نوکر
کشمیر میں ہی رہتے
تھے۔ ان نوکروں کو
برف لانے کا کام
سونپا جاتا تھا۔ یہ
نوکر برف کو گھوڑے
اور خچروں پر لاد
کر لاتے تھے۔
اس
کام کے لیے لوگوں
کی ایک چین (زنجیر)
بھی بنائی گئی تھی۔
یہ چین کشمیر سے
آگرہ تک تھی۔ برف
کو گھوڑوں یا خچروں
پر لادا جاتا تھا۔
اور 2 یا 3 کلومیٹر کے
بعد گھوڑے اور سوار
بدل
جاتے تھے۔ لمبا سفر
طے کرنے میں برف
پگھل جانے کا خطرہ
ہوتا تھا۔ اس لیے
برف کو پگھلنے سے
بچانے کے لیے ہر
ممکن کوشش کی جاتی
تھی۔
یہ
کہانی یا واقعہ مغل
دربار کی شان اور
مغل بادشاہوں کے رئیس شاہانہ
طور طریقے کی ایک
جھلک پیش کرتا ہے۔
کیا کسی اور مغل بادشاہ کو بھی برف پسند تھی؟
شاہ
جہاں کو برف بہت
پسند تھی اور اس
کے مختلف طریقوں سے
برف حاصل کرنے کے
واقعات بھی مشہور ہیں۔
لیکن شاہ جہاں اکیلا
مغل بادشاہ نہیں تھا
جسے برف پسند تھی۔
کچھ اور مغل حکمران
بھی تھے جنہیں برف
بہت پسند تھی۔
بابر
مغل
سلطنت کا بانی، بابر،
بھی برف کا شوقین
تھا۔ اور اس وجہ
سے وہ اپنے وطن،
فرغانہ، کو اکثر یاد
کیا کرتا تھا۔ بابر
بھی ہاتھی اور گھوڑوں
کا استعمال کرتے ہوئے
کشمیر سے دہلی تک
برف منگوایا کرتا تھا۔
ہمایوں
بابر
کے بعد اس کے
بیٹے، ہمایوں، نے بھی
کشمیر سے برف لانے
کی روایت کو جاری
رکھا۔ اس مغل بادشاہ
کو پھلوں کا رس
اور ٹھنڈا شربت بہت
پسند تھا۔ ان مشروبات
کو ٹھنڈا اور مزیدار
رکھنے کے لیے برف
ضروری ہوتی تھی۔ اس
لیے یہ بھی برف
منگوایا کرتا تھا۔
اکبر
ہمایوں
کا بیٹا اکبر بھی
برف کی قدر کرتا
تھا۔ اکبر کے لیے
پانی کو ٹھنڈا کرنے
کے لیے برف کا
استعمال کیا جاتا تھا۔
بادشاہ اکبر کے لیے
پنہار تک سے بھی
برف منگوائی جاتی تھی۔
وہاں سے برف کو
احتیاط سے پیک کر
کے کشتیوں میں بھیجا
جاتا تھا۔
اس دور میں برف کی اتنی اہمیت کیوں تھی؟
مغل
دور میں برف ایک
عیش کی چیز ہوتی
تھی۔ اس دور میں
صرف امیر اور طاقتور
لوگ ہی برف کو
منگوا اور جمع کر
سکتے تھے۔ برف سے
لطف اندوز ہونے کی
روایت پورے مغل دور
میں جاری رہی۔ یہ
ان بادشاہوں کی زندگی کی
ایک دلچسپ اور عجیب
و غریب جھلک
ہے۔
یہ دلچسپ کہانیاں بھی پڑھیں
ووزی ناں کو ووزی ناں کب سے اور کیوں کہتے ہیں؟
