یہ
کہانی ایک ایسے انسان
کی ہے جس کی
بیماری کا علاج اس
وقت کے ڈاکٹروں کے
پاس نہیں تھا۔ لیکن
اس نے اپنی بیماری
کا علاج خود ڈھونڈ
لیا۔
نورمن کزنز نے اپنی بیماری کے دوران ہنسنا کیوں شروع کیا؟
یہ
بات 1964 کی ہے۔ امریکی
مصنف اور صحافی نورمن
کزنز (Norman Cousins) اچانک ایک ایسی
بیماری میں مبتلا ہوگئے
جس نے ان کی
زندگی کو بہت مشکل
بنا دیا۔ وہ اس
وقت معروف ادبی جریدے
Saturday Review کے مدیر تھے۔ شروع
شروع میں انہیں جسم
میں درد اور شدید
کمزوری محسوس ہوئی۔ لیکن
چند ہی دنوں میں
ان کی حالت اس
قدر خراب ہوگئی کہ
جسم کے مختلف حصوں
کو حرکت دینا بھی
مشکل ہوگیا۔
آہستہ
آہستہ ان کے پورے
جسم میں دردیں شروع
ہوگئیں۔ جب وہ ڈاکٹر
کے پاس گئے تو
پتا چلا کہ وہ
(Ankylosing spondylitis) نام
کی ایک بیماری کا
شکار ہوچکے ہیں۔ سادہ
الفاظ میں کہا جائے
تو ان کو ایک
ایسی بیماری ہوئی تھی
جس میں ایک طرح
سے انسان کا جسم
اپنے آپ کو ہی
کھانا شروع کردیتا ہے۔
ان کی حالت مسلسل
خراب ہورہی تھی۔ درد
اتنا شدید تھا کہ
بستر پر کروٹ بدلنا
بھی مشکل ہوگیا تھا۔
ڈاکٹروں کی کوششوں کے
باوجود انہیں فوری طور
پر کوئی ایسا علاج
نظر نہیں آرہا تھا
جو ان کی حالت
کو بہتر کرسکے۔
اس
وقت جو ڈاکٹر تھے
ان کے پاس نورمن
کزنز کی بیماری کا
کوئی علاج نہیں تھا۔
یہ بات ڈاکٹروں نے
ان کو بھی بتا
دی تھی۔ ڈاکٹروں کا
کہنا تھا کہ پانچ
سو مریضوں میں سے
صرف ایک مریض اس
بیماری کے بعد دس
سال تک زندہ رہ
سکتا ہے۔ ڈاکٹروں نے
نورمن کزنز کو صاف
بتا دیا کہ ان
کی بیماری کا علاج
نہیں ہو سکتا۔ صرف
پین کلرز (Pain Killers) کے ذریعے ان
کا درد کم کیا
جاسکتا ہے۔
نورمن
کزنز کے جسم میں
ناقابل برداشت درد ہوتا
تھا۔ ڈاکٹر اس درد
کو کم کرنے کے
لیے انہیں دن میں
38 گولیاں دیتے تھے۔ لیکن
اتنی زیادہ گولیاں کھانے
کے باوجود درد مکمل
طور پر ختم نہیں
ہورہا تھا۔
نورمن
کزنز نے بیماری کی حالت میں ہی بستر پر لیٹے لیٹے اپنی بیماری پر تحقیق شروع کر دی۔
انہیں پتا چلا کہ جو پین کلرز وہ روزانہ کھا رہے ہیں، یہ ان کے جسم سے وٹامن سی کو
کم کر رہے ہیں۔ یہ بات ان کے لیے اچھی نہ تھی کیونکہ قوتِ مدافعت اور صحت یابی کا انحصار
تو وٹامن سی پر ہوتا ہے۔ نورمن کزنز نے یہ بات ڈاکٹروں کو بھی بتائی لیکن انہوں نے
کوئی خاص توجہ نہ دی۔ آہستہ آہستہ نورمن ڈاکٹروں سے ہسپتالوں سے مایوس ہو گئے۔ جس کا
نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے اپنا علاج جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔
نورمن
کزنز ایک ہوٹل میں
گئے اور وہاں مستقل
طور پر ایک کمرہ
لے لیا۔ یہ کمرہ
آرام دہ بھی تھا
اور اس کا خرچہ
بھی ہسپتال کے کمرے
سے کم تھا۔ انہوں
نے پین کلرز لینا
مکمل طور پر بند
کر دیا۔ نورمن ساری
ساری رات درد کی
حالت میں رہتے لیکن
پین کلر نہ کھاتے۔
البتہ وٹامن سی کا
استعمال کرتے رہے۔
ہوٹل
کے اس کمرے میں
ٹی وی تھا۔ نورمن
سارا دن ٹی وی
دیکھتے رہتے۔ اُن دنوں
ٹی وی پر چارلی
چپلن اور Marx Brothers کی فلمیں چلتی
رہتی تھیں۔ اس طرح
شدید درد کی حالت
میں ہونے کے باوجود
نورمن کو ہنسنے کا
موقع مل جاتا تھا۔
نورمن
کزنز نے محسوس کیا کہ جب وہ چارلی چپلن کی فلم دیکھتے تھے تو اُن کا درد کم ہو جاتا
تھا۔ انہوں نے اس تبدیلی کو نوٹ کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ جب وہ فلم دیکھتے
ہوئے قہقہ لگاتے تھے تو اُن کا درد ختم ہو جاتا تھا۔ نورمن نے مزید نوٹ کیا کہ دس منٹ
تک قہقے لگانے کے بعد انہیں دو گھنٹے تک درد نہیں ہوتا تھا۔ انہوں نے یہ تجربہ بار
بار کیا لیکن نتیجہ وہی رہا۔ یہ بات ان کے لیے حیران کر دینے والی تھی۔
ان
کے مطابق انہوں نے محسوس کیا کہ تقریباً دس منٹ تک ہنسنے کے بعد ان کا درد کچھ دیر
کے لیے کم ہوجاتا تھا اور وہ تقریباً دو گھنٹے تک نسبتاً سکون سے سو لیتے تھے۔ جب درد
دوبارہ بڑھتا تو وہ دوبارہ مزاحیہ فلمیں دیکھتے اور ہنسنے کی کوشش کرتے۔
انہوں
نے اس پر تحقیق شروع کر دی۔ انہیں معلوم ہوا کہ انہیں یہ بیماری صرف پریشانی (ٹینشن)
کی وجہ سے ہوئی تھی اور قہقے لگانا اس کا علاج ہے۔ اس کے بعد نورمن نے صرف ہنسنا اور
وٹامن سی لینا شروع کر دیا۔ ایسا کرنے کے صرف چند ہی ہفتوں بعد ان کے جسم سے بیماری
کے اثرات کم ہونا شروع ہو گئے۔ آہستہ آہستہ نورمن کزنز بالکل صحت یاب ہو گئے۔
نورمن
کزنز وہ پہلے انسان تھے جنہوں نے دنیا کو بتایا کہ قہقہ لگانے سے بھی کسی بیماری کا
علاج ہوتا ہے۔ اس کے بعد نورمن “لافٹر تھراپی“ کے بانی بن گئے۔ نورمن کزنز 1990ء میں
75 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ مگر اُن کا یہ علاج دنیا آج تک آزما رہی ہے۔
یہ دلچسپ کہانیاں بھی پڑھیں
سنگرام! تم پہلوان بنو گے اور دنیا یہ دیکھے گی
