کیا
ٹائٹینک نام کا سچ میں کوئی جہاز تھا جو ڈوب کر تباہ ہوگیا تھا؟ اس کہانی میں آپ سمندر
میں ڈوب جانے والے مشہور جہاز ٹائٹینک کے متعلق پڑھیں گے۔
ٹائٹینک کب اور کیسے ڈوبا تھا؟
ٹائٹینک
صرف ایک جہاز نہیں تھا۔ بلکہ یہ اپنے زمانے کا سب سے بڑا اور شاندار مسافر جہاز تھا۔
اس جہاز کو "کبھی نہ ڈوبنے والا" مانا جاتا تھا۔
لیکن
14 اپریل، 1912 کی ایک رات کو یہ جہاز ایک برفانی پہاڑ سے ٹکرا گیا اور اٹلانٹک اوشن
کی گہرائی میں سما گیا۔ یہ ایک بہت بڑا واقعہ تھا جو آج تک لوگوں کو یاد ہے۔
ٹائٹینک
ایک بہت بڑا اور عالی شان مسافر جہاز تھا۔ اس جہاز کو "اوشن لائنر" بھی کہتے تھے۔ ٹائٹینک
اپنے زمانے کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ عالی شان جہاز تھا۔ یہ جہاز "وائٹ اسٹار لائن" کمپنی کا تھا۔
کچھ
لوگ اس جہاز کو "اَن سنک ایبل" یعنی "نہ ڈوبنے والا" بھی کہتے
تھے، کیونکہ اس جہاز میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی تھی۔ اس جہاز میں بڑی سیڑھیاں،
عالی شان کھانے کے کمرے اور ہر طرح کی عیش و آرام کی چیزیں تھیں۔ یہ اتنا بڑا جہاز
تھا کہ اس میں ہزاروں لوگ سفر کر سکتے تھے۔
ٹائٹینک کو "ہارلینڈ اینڈ وولف" نام کی کمپنی نے بیلفاسٹ، آئرلینڈ میں بنایا تھا۔ اس جہاز کو بنانے کا کام 31 مارچ 1909 سے شروع ہوا اور یہ جہاز 31 مئی 1911 کو لانچ ہوا تھا۔ لیکن، یہ مکمل طور پر 2 اپریل 1912 تک تیار نہیں ہوا تھا۔
ٹائٹینک
اپنے زمانے کا سب سے بڑا جہاز تھا۔ ٹائٹینک کی لمبائی 882 فٹ اور ٹائٹینک کا وزن
46,328 ٹن تھا۔ اس میں 9 ڈیکس تھے جن میں مختلف اقسام کی سہولیات موجود تھیں۔ ان سہولیات
میں عالی شان کمرے، ریسٹورنٹس، دکانیں، جم، سوئمنگ پول اور یہاں تک کہ ایک اسکواش کورٹ
بھی تھا۔
ٹائٹینک میں 4 چمنیاں تھیں۔ ان میں سے 3 کام کرتی تھیں اور ایک صرف دکھاوے کے لیے تھی۔ اس جہاز میں 20 "لائف بوٹس" تھیں جو 1,178 لوگوں کے لیے کافی تھیں۔ لیکن یہ جہاز پر سوار تمام لوگوں کے لیے کافی نہیں تھیں۔
ٹائٹینک کا پہلا سفر ساؤتھمپٹن، انگلینڈ سے نیو یارک سٹی، امریکہ تک کا تھا۔ ٹائٹینک کا پہلا سفر 10 اپریل 1912 کو شروع ہوا تھا۔
بدقسمتی
سے ٹائٹینک اپنا پہلا سفر مکمل نہیں کر سکا تھا۔ یہ جہاز اپنے پہلے سفر کے دوران
ہی ڈوب گیا تھا۔ یہ جہاز نیو یارک سٹی کے لیے نکلا تو تھا لیکن پہنچ نہ سکا۔
ٹائٹینک
برف کے ایک تودے (چٹان) سے ٹکرانے کے بعد ڈوب گیا تھا۔ اپریل 14، 1912 کو رات کے وقت،
جہاز تیزی سے سفر کر رہا تھا اور ایک بڑا سا برفانی پہاڑ جہاز کے سامنے آ گیا۔ جہاز
اس پہاڑ سے ٹکرا گیا۔ اس سے جہاز کے پیٹ میں ایک چھید ہو گیا۔
اس
چھید سے پانی جہاز کے اندر آنا شروع ہو گیا۔ جہاز میں پانی کو روکنے کے لیے جو حصے
بنائے گئے تھے وہ پوری طرح سے پانی کو روکنے میں ناکام رہے۔ اس طرح ٹائٹینک اپنے پہلے
سفر کے دوران ہی پانی میں ڈوب گیا۔
جہاز 14 اپریل، 1912 کی رات ایک برفانی پہاڑ سے ٹکرایا تھا اور 15 اپریل، 1912 کو صبح کے اوقات میں ڈوبا تھا۔ یہ جہاز "نارتھ اٹلانٹک اوشن" میں، نیوفاؤنڈ لینڈ، کینیڈا سے تقریباً 400 میل جنوب میں ڈوبا تھا۔
جہاز
پر تقریباً 2,224 لوگ سوار تھے۔ ان لوگوں میں مسافر اور جہاز کا عملہ دونوں شامل تھے۔
ٹائٹینک
پر سوار تقریباً 2,224 لوگوں میں سے، اندازاً 1,500 لوگ اس حادثے میں مارے گئے تھے۔
یہ تعداد مختلف رپورٹس میں تھوڑی سی مختلف بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن 1,500 ایک عام طور
پر تسلیم شدہ تعداد ہے۔
ٹائٹینک
کے حادثے میں، اندازاً 705 لوگ زندہ بچ گئے تھے۔ جہاز میں کچھ لائف بوٹس تھیں۔ کچھ
لوگ خوش قسمت تھے کہ انہیں لائف بوٹس میں جگہ مل گئی اور وہ زندہ بچ گئے۔ لائف بوٹس،
زیادہ تو نہیں تھیں، لیکن پھر بھی کچھ لوگوں کو بچانے میں مددگار ثابت ہوئیں۔
دوسرا جب جہاز ڈوب رہا تھا تو کچھ لوگ جہاز کے ملبے کے ٹکڑوں سے چپک گئے۔ یہ لوگ اس طرح مدد کے لیے آنے والے جہازوں کا انتظار کرتے رہے۔ یہ یاد رہے کہ بچنے والے لوگ بہت کم تھے اور ان کی تعداد ڈوبنے والوں کے مقابلے میں بہت ہی کم تھی۔
کارپیتھیا نام کا ایک جہاز سب
سے پہلے مدد کے لیے پہنچا اور ان لوگوں کو بچایا جو ابھی تک زندہ تھے۔ اگر یہ جہاز
وہاں اس وقت نہ پہنچتا تو مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہوسکتی تھی۔
جب
ٹائٹینک ڈوبا، تو اس وقت اٹلانٹک سمندر کا پانی تقریباً 28 ڈگری فارن ہائیٹ (2- ڈگری
سیلسیس) تھا۔ مطلب کہ اس وقت سمندر کا پانی بہت ہی ٹھنڈا تھا۔ اس درجہ حرارت میں رہنے
سے "ہائپوتھرمیا"
بہت جلدی ہو جاتا ہے۔
یہی وجہ تھی کہ ٹائٹینک کے ڈوبنے کے بعد پانی میں گرنے والے کئی لوگ کچھ ہی منٹ میں مر گئے تھے۔ ماہرین کے مطابق ٹائٹینک کے ڈوبنے کے وقت پانی اتنا ٹھنڈا تھا کہ لوگ 15 منٹ میں بے ہوش ہو سکتے تھے۔
ٹائٹینک
کا یہ حادثہ تاریخ کے سب سے دردناک اور بڑے حادثات میں سے ایک ہے۔ اس حادثے نے دنیا
بھر کے لوگوں کو ایک گہرے صدمے میں ڈال دیا تھا۔ ٹائٹینک کے ڈوبنے کی وجہ سے سمندری
سفر کے قوانین میں بھی مختلف تبدیلیاں کی گئیں۔
ٹائٹینک
کی کہانی آج بھی لوگوں کو یاد ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ
انسان کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو جائے، قدرت کے سامنے ہم سب کمزور ہیں۔
ٹائٹینک
کی یاد آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ لوگ آج بھی اس کہانی کو بہت شوق سے پڑھتے
اور سنتے ہیں۔ اس کہانی پر فلمیں بھی بن چکی ہیں اور کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔ ٹائٹینک
کا واقعہ ان تاریخی اور سچے واقعات میں سے ایک ہے جو کبھی بھی نہیں بھولتے۔
