اس
کہانی میں آپ آخری
مغل بادشاہ بہادر شاہ
ظفر کی زندگی سے
متعلق ایک دلچسپ واقعہ
آسان الفاظ میں پڑھیں
گے۔
جب بہادر شاہ ظفر نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو کیا نکلا؟
بادشاہ
بہادر شاہ ظفر ہندوستان کا آخری مغل بادشاہ تھا۔ جب بہادر شاہ ظفر تخت پر بیٹھا تو
اس وقت اس کی عمر 62 سال تھی۔ بہادر شاہ ظفر کو ایک بدقسمت بادشاہ مانا جاتا ہے۔ بہادر
شاہ ظفر کی سلطنت صرف دہلی تک ہی محدود تھی، کیونکہ جب وہ تخت پر بیٹھا تو دہلی کے
مضافات تک آدھی سلطنت پر مراٹھے قبضہ کر چکے تھے اور باقی سلطنت پر ایسٹ انڈیا کمپنی
قبضہ کر چکی تھی۔
آباؤ
اجداد جو تھوڑا بہت خزانہ چھوڑ گئے تھے، اسی خزانے کے سہارے گزارا چلتا رہا۔ شہزادے
سارا دن کبوتربازی کرتے تھے اور رات کو طوائفوں کے مجرے دیکھتے تھے۔ بادشاہ شراب بھی
پیتا تھا اور شاعری کا شوق بھی تھا۔ چنانچہ بادشاہ رات بھر مشاعرے میں بیٹھا رہتا اور
صبح کی نماز پڑھ کر سو جاتا۔
شہر
کی حالت یہ تھی
کہ رشوت، لوٹ مار
اور چوری چکاری جیسی
چیزیں عروج پر تھیں۔
شہر میں قانون نام
کی چیز صرف برائے
نام تھی۔ یہی وہ
زمانہ تھا جسے اس
وقت کے لوگوں نے
”طوائف الملوکی“ کا نام دیا
تھا۔
جب
1857ء کی جنگ شروع
ہوئی تو بہادر شاہ
ظفر کی عمر اُس
وقت 82 سال تھی۔ بادشاہ
کی حالت ایسی نہیں
تھی کہ وہ انگریزوں
کے ساتھ جنگ لڑ
پاتا۔ مگر ایسٹ انڈیا
کمپنی کے وہ فوجی
جو ہندوستانی تھے، بادشاہ کے
پاس آئے اور انہوں
نے بادشاہ کی غیرت
کو کچھ ہوا دی۔
چنانچہ بادشاہ نے انگریزوں
کے ساتھ لڑنے کا
فیصلہ کر لیا۔
بہادر
شاہ ظفر نے فوجی لباس تو پہنا، مگر ایک فوجی کی طرح میدان میں ٹک نہ سکا۔ ناتوانی،
82 سال کی عمر اور کثرتِ شراب نوشی جیسی چیزوں کی وجہ سے وہ ہاتھ میں تلوار پکڑ کر
زیادہ دیر تک ہاتھی کی پیٹھ پر بھی نہ بیٹھ سکا۔ چنانچہ بادشاہ نے تلوار ہاتھی کی پیٹھ
پر رکھ دی۔ ان حالات میں جنگ کا نتیجہ جو نکلنا تھا، وہی نکلا۔ دہلی بھی ایسٹ انڈیا
کمپنی کے قبضے میں چلی گئی۔
بہادر
شاہ ظفر کو 20 ستمبر
1857 کو ہمایوں کے مقبرے
سے گرفتار کر لیا
گیا۔ انگریزوں نے بہادر شاہ
ظفر کے بیٹوں اور
پوتوں کو قتل کر
دیا۔ اس کے بعد
بہادر شاہ ظفر پر
مقدمہ چلایا گیا اور
1858 میں بہادر شاہ ظفر
اور ان کی بیگم
زینت محل کو ملک
بدر کر دیا گیا۔
ان دونوں کو رنگون
بھجوا دیا گیا۔
یہ
وہ وقت تھا جب بہادر شاہ ظفر سلطنت، خزانے اور محل جیسی چیزوں سے محروم ہو چکا تھا۔
اس کے پاس کسی کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔ ان حالات میں جب اسے رنگون بھجوانے
کے لیے کمپنی کے بحری جہاز میں سوار کیا جا رہا تھا تو ایک قلی نے اسے جھک کر سلام
کیا۔
مغل
سلطنت کے بادشاہوں کی روایت تھی کہ یہ جھک کر سلام کرنے والوں کو خالی ہاتھ واپس نہیں
جانے دیتے تھے۔ چنانچہ جب بہادر شاہ ظفر نے اُس قلی کو جھک کر سلام کرتے دیکھا تو بے
اختیار اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا۔ مگر جیب میں اُس وقت صرف ایک تسبیح تھی۔ بادشاہ نے
وہ تسبیح نکالی اور اُس قلی کو دے دی۔ بہادر شاہ ظفر نے بادشاہت سے محروم ہونے کے باوجود
اپنے خاندان کی روایت کو جاری رکھا۔ یہ تسبیح بہادر شاہ ظفر کی طرف سے ایک ہندوستانی
شہری کے لیے یادگار تحفہ تھی۔
یہ دلچسپ کہانیاں بھی پڑھیں
چارلی چیپلن کی قبر سے لاش کس نے اور کیوں چوری کی؟
